پاکستان کے سابق سفارتکار عارف کمال وفات پا گئے ہیں۔ انہیں ایک کشمیری اور پاکستان کے سفارتکار کے طور پر تو سب لوگ جانتے ہیں، لیکن انکا ایک تعارف اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ وہ پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کے نوجوانوں کی قومی آزادی اور غیر طبقاتی سماج کے قیام کےلئے اولین مزاحمتی تحریک جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانیوں میں بھی شامل رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر جے کے این ایس ایف کا مونوگرام، جو نوجوانوں میں بہت مقبول رہا ہے، اسکے تخلیق کار بھی عارف کمال ہی تھے۔
یہ الگ بات ہے کہ وہ اس راستے کو ترک کر چکے تھے اور اب وہ پاکستانی سفیر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ یہ بھی اہم ہے کہ اب ان کے تخلیق کردہ مونوگرام سے رشتہ رکھنے والے کسی بھی شخص کو کسی ریاستی عہدے اور سہولت کے حصول کا راستہ ہمیشہ کےلئے بند کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کے کسی اشاعتی ادارے کا اجازت نامہ بھی نہیں دیا جاتا۔ ماضی میں مگر ہزاروں نوجوانوں کو ریاستی اداروں اور محکمہ جات کے علاوہ پاکستان نواز سیاست میں بھی اہم مقام فراہم کیا جا چکا ہے۔ البتہ حب الوطنی آج بھی انہیں جگہ جگہ ثابت کرنا پڑتی ہے۔

