مجھے اگر چھوڑنا ہی ہے تو...
(ایک بنگالی نظم کا ترجمہ)
مجھے اگر چھوڑنا ہی ہے تو
اس گھاس کے ٹکڑے پر
لےجاکر چھوڑنا
جہاں پہلی بار تم نے
میرے گود میں سر رکھا تھا
مالک کے ساتھ گھومتے کتّے سے ڈر کر
میرے جسم سے مزید لپٹ گئی تھیں
میں آج بھی اس ٹکڑے کی زیارت کو جاتا ہوں
مجھے اگر چھوڑنا ہی ہے تو
شاندار مال کی
چھٹی منزل کی سیڑھیوں پر چھوڑنا
جہاں تمھاری سانسوں سے
مجھے آکسیجن ملتی تھی
جہاں بیٹھ کر
ہونٹوں اور کافی کے سِپ کا
رومانی تجربہ کامیاب ہوا تھا
ان سیڑھیوں پر آج بھی
تم میرے ساتھ ہوتی ہو
مجھے اگر چھوڑنا ہی ہے تو
دفتر کے اس کمرے میں چھوڑنا
جہاں قربتیں چھٹّی نہ ہونے کی دعا کرتی تھیں
تم چلی گئیں مگر اپنے کمرے میں
اب بھی تمھیں آتا جاتا دیکھتا ہوں
مجھے اگر چھوڑنا ہی ہے تو
کہیں بھی چھوڑ دو
شہر کا ہر حصہ
ہمیں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے
راستوں کو پیار بناتے دیکھ چکا ہے
If I have to leave...
(Translation of a Bengali Poem)
If I have to leave
On this piece of grass
Take away
Where the first time you
His head was in my lap
Afraid of a dog walking with its owner
She was more attached to my body
I still visit this piece today
If I have to leave
Of great wealth
Exit on the stairs to the sixth floor
Where from your breath
I was getting oxygen
Where sitting
Of lips and a sip of coffee
The Romani experiment was a success
On these stairs even today
You are with me
If I have to leave
Leave in this office room
Where relatives used to pray not to leave
You left but in your room
I still see you coming and going
If I have to leave
Leave it anywhere
Every part of the city
Put us hand in hand
He has seen the paths make love
